ان خیالات کا اظہار ایرانی صدر نے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے دس رکنی پارلیمانی وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ترجمان سے جاری تفصیلات کے مطابق ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک اپنی تاریخ ،ثقافت اور مذہب کی یکسانیت کے پیش نظر برادرانہ تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط کریں گے معاشی اور تجارتی رابطوں کو فروغ دیا جائے گا ،ملاقات میں باہمی تجارت کے فروغ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر جلد اور تیزی سے عملدرآمد ہو تا کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری ہو سکے انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے صوبے بلوچستان کو بجلی فراہم کرے گا اور اس سلسلے میں متعلقہ پاکستانی حکام کے ساتھ تمام طریقہ کار کو حتمی شکل دے چکی ہے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا کئی اہم معاملات پر موقف یکساں ہے ،اوآئی سی ،ای سی او اور پاکستان ایران و افغانستان کے درمیان سہ فریقی میکنزم پر بھی موقف ایک جیسا ہے ،انہوں نے پاکستان کے عوام کیلئے اپنی نئی خواہشات کا اظہار کیا۔ دریں اثناء سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے عوام گہرے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی خطہ کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ انہوں نے ایرانی صدر کو قبائلی علاقوں میں انتہا پسند عناصر کے خلاف جاری اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑ رہا ہے۔ اس ضمن میں دوست ممالک کو تعاون کرنا چاہئے۔ سپیکر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول موجود ہے اور موجودہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور پاک ۔ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ سے دونوں جانب ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
/152 _ 110